لاھور سے لندن – پی آئی اے کی داستان

پرواز کو اڑان بھرے ایک گھنٹہ ہو چکا تھا کہ کھانوں کی بھینی بھینی خوشبو نے اس امید کو جگائے رکھا کہ PIA ھماری تواضع کرنے میں سنجیدہ ہے

تاہم مینو کارڈ کہ جس میں کھانے کی چوائسز کا اندراج ہوتا ہے ،اسے ہم نے دیوانے کا خواب سمجھ کر بھلا دیا ۔ فضائی میزبان آئی اور ہمارے سامنے مٹن جنجر یوں پٹخا جیسے امی بچپن میں سبزی کھلاتی تھی کہ کھانا ہے تو کھاؤ ورنہ دفع ہو جاؤ۔

چار و ناچار بھوک کی شدت سے فورا کھانے کا سنہری ورق سے لپٹا گھوگھنٹ اٹھایا تو فرط جذبات سے آنکھوں میں آنسوں آ گئے جیسے ارینگڈ میرج والے دلہے کی آنکھوں میں آتے ہیں۔ پورشن میں گن کر کسی نے چار چمچ چاول ، دو چمچ دال اور منہ دکھائی میں تھوڑا سا مٹن تھا ۔ فضائی میزبان کو بلایا کہ آپ نے عنایہ کا چائلڈ پورشن ہمیں بھی دے دیا ۔ جواب میں اسکی “ گھوری” ہی کافی تھی ۔ صبر شکر کر کہ دو نوالے کھائے ۔ سلاد کی حالت دیکھ کر اسے ہم نے بند ہی رہنے دیا اور ٹوٹے ہوئے کپ میں ( تصویر دیکھیں) چائے پی اور کمبل تان کر آنکھ موند لی۔

آدھا گھنٹہ ہی گذرا تھا کہ ایک زور دار دھماکہ ہوا ۔

دھماکہ کی جگہ کا تعین کرنے کے کہ لئے ِادھر ُادھر نظر دوڑائی مگر کچھ نظر نہ آیا۔ اسی دوران دوسرا دھماکہ ہوا اور یہ پہلے سے بھی زیادہ زوردار تھا ۔ آواز سے سمت کا اندازہ لگایا تو پیٹ سے آواز آ رہی تھی ۔

اس سے پہلے کہ تیسرا دھماکہ ہوتا اور ان دھماکوں کی شدت سے پیدا ہونے والی “ باد نسیم” خارجی راستے سے ہوتی ہوئی مسافروں تک پہچتی ، میں فوراً ٹوئلٹ کی طرف بھاگا ۔ بس وہ دن ہے اور آج کا دن، اس مٹن Ginger کی تباہ کاریاں ہم بھگت رہے ہیں۔

الله جانتا ہے کہ اس میں کوئی مبالغہ آرائی نہیں یا پھر یہ خصوصی تواضع ہماری خدمت ہمارے حصہ میں ہی آتی ہے ۔ آپ کا مشکور ہوں کہ آپ نے میری خیریت کے لئے اتنے پیغامات بھیجے ۔ ذرا طبیعت بحال ہو گی تو PIA کی اس تواضع پہ تفصیلی بات ہو گی

الله ہماری قومی ائیر لائین کو ہدایت دے ، آمین

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *