ابو کی ڈائری سے

ابو 31 مارچ 2019 کو اچانک ہمیں چھوڑ کر اللہ کے پاس چلے گئے ۔ یہ اقساط میں نے ابو کی وفات کے چند دن بعد لکھی تھیں –

———

قسط 1

میرا بچپن دوحہ میں گزرا۔

والدین نے دنیا کی ہر نعمت میسر کی۔ اپنی استطاعت سے بڑھ کر کیا۔

مجھے کھلونوں میں ریموٹ کنڑول گاڑیوں کا شوق تھا۔ جس گاڑی پہ ھاتھ رکھتا تھا ، ابو نے لے کر دی۔

ان میں سے دو تین گاڑیاں ابھی بھی میرے پاس ہیں۔ کبھی کبھار کھیلتے ہوئے چوٹ لگتی تھی تو ابو کو پتا تھا کہ عرفان کو باہر گھمانے لے جاؤ تو یہ ٹھیک ہو جائے گا۔

ایک دو بکالے ( دوکان) تھے جن کہ سینڈوچ مجھے بہت پسند تھے ۔ ابو مجھے وہاں لے جاتے اور میں اپنا من پسند سینڈوچ اور جوس لے کر بہل جاتا تھا۔

ان میں سے ایک دکان گھر سے بہت ہی قریب تھی۔ میں اکثر وہاں بہن بھائیوں کے ساتھ چلا جاتا اور خوب سیر ہو کہ کھاتا۔ کھا پی کہ کہتا کہ پیسے ابو سے لے لینا

دوکاندار کو بھی پتا تھا کہ پیسے تو مل ہی جانے ہیں تو وہ بھی کھل کر آرڈر لیتا تھا

اس کاروائی کے بعد ابو کو کبھی نہیں بتایا کہ ہم دوکان “ لوٹ” آئے ہیں

مہینے کے اختتام پہ جب دوکاندار تگڑا بل لے آتا تو ہم اس انتظار میں رہتے کہ اب ڈانٹ پڑی کے تب پڑی مگر ایسا کبھی نہ ہوا ۔ کبھی انہوں نے پوچھا نہ منع کیا۔

باقی کل لکھوں گا انشاء الله

ابو الله آپ کو جنت میں اعلی مقام دے آمین

(وفات کا پانچواں روز)

ابو کی ڈائری سے- حصہ 2&3

جیسا کہ میں نے کل ذکر کیا تھا کہ بچپن دوحہ میں گزرا تھا اور والدین نے وہ تمام سہولیات میسر کی جن کی ہم نے خواہش کی اور نہیں بھی کی ۔

اچھی تعلیم ان کی اولین ترجیح تھی۔ اس زمانے میں دوحہ میں پاکستانی اسکول کا معیار اتنا اچھا نہ تھا۔ لہذا والدین نے مجھے اور بڑے بھائی کو لاہور نانا نانی کے پاس بھیج دیا جہاں ہمارا داخلہ بہترین پرائیویٹ اسکولز میں کروایا گیا ۔ اسکول کی فیس بہت زیادہ تھی مگر ابو نے مینج کیا ۔ رزق حلال انکی زندگی کا بہت بڑا اثاثہ تھا ۔

قصہ مختصر کہ قوت اور استطاعت سے بڑھ کہ بہترین بچپن دیا۔

پھر گلف میں چھڑنے والی جنگ سے پیدا ہونے والی صورت حال کی وجہ سے انہیں سب کچھ چھوڑ کر پاکستان آنا پڑا۔ صرف تن پہ موجود کپڑوں اور میرے دو چھوٹے بہن بھائیوں اور والدہ کو لے کر لاہور آگئے ۔

ہم اس صورت حال سے پیدا ہونے والے معاشی اثرات سے بے خبر تھے کہ بچپن چیز ہی ایسی ہے ۔ ہماری انُ سے توقعات ویسی ہی تھیں جیسے وہ اب تک ہمیں نازونعم سے پالتے آرہے تھے۔

بچپن میں مجھے رسالے پڑھنے کا بہت شوق تھا ۔پھول ، نونہال ، تعلیم و تربیت اور آنکھ مچولی میرے پسندیدہ رسالے تھے۔

ایک دن میں ابو کے ساتھ باہر نکلا ۔ انہیں کچھ کام تھا تو میں بھی ساتھ ہو لیا ۔ راستے میں بک شاپ آئی تو کیا دیکھتا ہوں کہ آنکھ مچولی کا خصوصی ایڈیشن خوفناک نمبر شائع ہوا ہے ۔ عام ایڈیشن کی قیمت 12-15 روپے ہوا کرتی تھی مگر خوفناک نمبر کی قیمت بھی ہوشربا تھی ۔ پورے 25 روپے ۔ یوں سمجھ لیجئے کہ آج کے زمانے کے حساب سے ہزار نہیں تو پانچ سو روپے تو بنتے ہونگے ۔

میں نے رسالے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ابو سے کہا کہ میں تو اس خاص نمبر کا بہت دنوں سے منتظر تھا ۔ ابو نے کوئی سوال نہ پوچھا ، نہ کہا کہ بیٹا پھر لے دونگا ۔ میرا ھاتھ پکڑا اور دکان کے اندر لے گئے ۔ رسالہ خریدہ اور میرے سر پہ ھاتھ رکھا اور ہم دکان سے باہر آگئے ۔

اب چونکہ ابو سے کافی عرصہ بعد ملا قات ہو رہی تھی تو دل میں دبی خواہشات امڈ امڈ کر فرمائشوں کی صورت میں باہر آ رہی تھیں۔

کچھ قدم ہی چلے کے تھے بائیں جانب ڈیپارٹمنٹل اسٹور آگیا جس نے پرنس بسکٹ کا ڈبہ اپنے شو کیس میں اس طرح سجا رکھا تھا کہ ہر آنے جانے والے کی نظر پڑے ۔

اس زمانے میں ہاف پیک نہیں ہوا کرتے تھے ۔ پرنس کے چاکلیٹ بسکٹ میرے پسندیدہ تھے مگر بات قیمت کی ہو تو وہ تھی بیس روپے ۔ یہ بھی سستے نہ تھے مگر ابو سے کہہ بیٹھا کہ چاکلیٹ نہ سہی چاکلیٹ کے بسکٹ ہی سہی

ایک بار پھر جیب سے پیسے نکالے اور بسکٹ لے کے دئیے

آج چند گھنٹے قبل گراسری Grocery کے لئے نکلا تو پرنس بسکٹ کے ڈبے پہ نظر پڑھتے ہی اس واقع اور ابو کی یاد آگئی

نہ ابو رہے اور نہ ہی پرنس بسکٹ کا پرانا بڑے سائز کا بسکٹ

میں نے بسکٹ کے ڈبے کو فوٹولے کر واپس اسکی جگہ پہ رکھ دیا کہ اب اسکی طلب نہیں

جیب میں چند پیسے ہوں اور پھر بھی ایسا ایثار اور قربانی والدین ہی دے سکتے ہیں

ابو ، آپ کی یاد ارد گرد ہر شہ میں بسی ہے ، صبح ملنے آؤ گا انشا ء الله

( وفات کا چھٹا روز )

ابّو کی ڈائری سے -چوتھا حصہ

اتوار کا دن ہوا کرتا تھا تھا -لگ بھگ کوئی ساڑھے دس بجے کا وقت ہوا کرتا تو میرے کمرے لگے انٹر کام کی گھنٹی بج اٹھا کرتی تھی –

نیم خوابیدہ حالت میں انٹر کام اٹھاتا تو دوسری طرف لائن پہ ابّو ہوا کرتے تھے –

” جی ابّو ؟ “

” ہاں بھئی ، پندرہ منٹ میں نیچے آجاؤں میں ناشتہ لے کر آ رہا ہوں ” یہ کہہ کر ابّو نے انٹرکام رکھ دینا اور میں نے تیار ہو کر نیچے لاؤنج کا رخ کرنا –

ان کا معمول تھا کہ ہر اتوار کو خاص طور پہ جا کر حلوہ پوڑی ، کلچے اور چنے لے کر آیا کرتے تھے –

جانے سے پہلے تمام گھر والوں کو تیار کر کہ جانا کہ دیکھوں حلوہ پوڑی تو گرما گرم ہی اچھی لگتی ہے-

یہ ابّو کا پسندیدہ ناشتہ تھا اسے لے کر وہ حساس بھی تھے – لہٰذا تمام گھر کے افراد ابّو کے آنے تک دستر خوان پہ تیار بیھٹے ھوتے تھے –

جیسے ہی ابّو نے آنا ، گرم گرم ناشتہ پیش دیا جاتا –

میرے لندن سے آنے پہ اتوار کا یہ ناشتہ مزید اھتمام کے ساتھ ہوتا تھا اور ابّو ساتھ لسی بھی شامل کر لیا کرتے تھے –

امی ابّو کو کہتی رہ جاتی تھیں کہ وہ چھٹی پہ آیا ہے اسے سونے دیں مگر ابّو دس سے گیاراں کے درمیان میرے کمرے کا انٹرکام بجا دیا کرتے تھے –

پھر مجھے لسی پلا کر امی کی طرف شرارتی نگاھوں سے دیکھتے ہوۓ کہتے تھے ” ہن لسی پی لی ہے تو فیر سو جاؤں ” ( اب لسی پی لی ہے تو سو جاؤ پھر سے )

ستمبر میں جب میں پاکستان آیا تھا تو انھیں لاہور کے معروف لکشمی چوک کے ناشتے کے لئے لے کر گیا – ناشتہ کر کے کہتے کہ شہر والے ناشتے کا کوئی مقابلہ نہیں ہے – وہاں سے فارغ ہو کر ہم مسجد وزیر خان دیکھنے گئے جس کی تفصیل بلاگ پہ جلد لکھوں گا –

آج بھی اتوار ہے – گھڑی دیکھی تو ساڑھے گیارہ بج چکے تھے –

انٹرکام اٹھا کہ دیکھا کہ شائد خراب نہ ہو گیا ہو –

انٹر کام ٹھیک تھا –

آج اتوار تھا مگیر انٹرکام نہ بجا –

انٹرکام بجانے والا اور ناشتہ لانے والا رخصت ہو چکے ہیں –

( وفات کا ساتواں روز )

2 thoughts on “ابو کی ڈائری سے

  1. Bhht acha lga prh kr..waledain bylous hoty hain .ye un ka rizq e halal tha or trbiyat thi k ap aj itny qabil or aik bhht achy insan hain .Allah pak ap k walid sahb k darjaat buland farmaye ameen sum ameen

  2. Bht bht acha laga… waldain ka koi neam ul badal ni…unka pyar unki dant unki care koi ni unki jagha lay sakta… pardes me reh k to wesay hi bht yad ati h man bap ki. Allah pak apk abu ko jennat me ala maqam day amin…

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *