سفرنامہ ہالینڈ- قسط 1

ہالینڈ سے میرا تعارف ہاکی کی وجہ سے ہوا ۔ میں چونکہ کھیلوں کا شوقین تھا تو ہاکی بھی شوق سے دیکھتا کرتا تھاجب ہم اسکول میں پڑھتے تھے تو پاکستان کی قومی ہاکی ٹیم بہت اچھی ہوا کرتی تھی۔مغربی جرمنی، آسٹریلیا اور خاص کر ہالینڈ سے اس کا کانٹے دار مقابلہ ہوا کرتا تھا۔ہالینڈ میں ہونے والی چیمیئنز ٹرافی کے دوران میں نے پہلی مرتبہ ایمسٹرڈیم کا نام سنا اور اس شہر کی خوبصورتی سے بہت متاثر ہوا -تب کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایک دن اس ملک اور شہر کو دیکھنے کا موقع بھی ملے گا۔ کئی مرتبہ ہالینڈ دیکھنے کا پلان بھی بنایا مگر پھر دوسرے ممالک اور شہر کسی نہ کسی وجہ سے اس پہ فوقیت لے گئےاس بار فروری میں جیسے ہی اسکول کی چھٹیاں ہوئیں، ہم نے بالکل آخری لمحات میں ایمسٹرڈیم جانے کا منصوبہ بنایا ۔اب گورے ٹھہرے منصوبہ بندی کے ماہر جو ہر چیز پہلے سے بک کر لیتے ہیں تو جب ہم ٹرین کی ٹکٹ دیکھنے بیٹھے تو کچھ بھی دستیاب نہیں تھا۔منصوبہ کھٹائی میں پڑ نے کا گمان ہوا تو سوچا چلو لندن سے اپنی گاڑی پہ براستہ سمندر ایمسٹرڈیم چلتے ہیں۔سمندری راستے سے جانے کے لیے بھی آپ کو فیری کی بکنگ کروانا پڑتی ہے ۔ بکنگ کروانے بیٹھے تو ہاتھوں کے توتے اڑ گئےانگلستان سے یورپ جانے کے لیے سمندری راستے سے فیری کے علاوہ یورو ٹنل ٹرین بھی چلتی ہے ۔ فیری اور ٹرین دونوں ہی حیران کن ایجاد ہیں جو انسانوں کے ساتھ ساتھ نقل و حمل کے لئے استعمال ہونے والی گاڑیاں، ٹرک اور مسافر بسوں کو بھی اپنے اندر سمو لیتی ہیں۔خیر ٹرین تو مکمل طور پہ بک تھی جبکہ فیری میں بھی جانے کی بکنگ ملتی تو واپسی کی تاریخوں کے لئے جگہ نہ تھی۔ پھر کچھ تحقیق سے پتہ چلا کہ انگلینڈ کی بندر گاہ سے فرانس کی پورٹ تک دو مختلف کمپنیوں کے سمندری جہاز چلتے ہیں۔دونوں کی ویب سائٹ ساتھ ساتھ کھولی اور ایک کمپنی کے ذریعے جانے کی اور ایک سے آنے کی بکنگ کروائی ۔خدا خدا کر کے یہ مرحلہ طے پایا تو اگلا مرحلہ ہوٹل بکنگ کا تھا جو تھوڑی جدوجہد اور دوسرے سیاحوں کے ری ویوز پڑھنے کے بعد آسانی سے طے پا گیا۔

یاد رہے کہ ایمسٹرڈیم یورپ کے چند مہنگے ترین شہروں میں شمار ہوتا ہے اور شہر کچھ زیادہ بڑا بھی نہیں اس لیے مرکز میں ٹھہرنے کے لئے ہوٹلز کی دستیابی محدود ہے ۔ اس لیے ہو سکے تو جلد از جلد بکنگ کروا لینی چاہیے ۔میرے ذاتی خیال میں آپ کو مرکز سے 15۔20 منٹ کی ٹرین یا ٹرام مسافت پہ رکنا چاہیے کیونکہ مرکز میں جو ہوٹلز تھے انکے مضافات میں بہت ہی زیادہ رش رہتا ہے اور سیاح رات دیر تک وہاں موجود رہتے ہیں ۔ اگر آپ اس شور و غل کے عادی نہیں تو آپ کے لیے یہ تجربہ ناخوشگوار ثابت ہو سکتا ہے ۔اس بارے میں اگلی اقساط میں مزید بات ہو گی۔مقررہ دن پر ہم بمعہ اہل و عیال کے Dover روانہ ہوئے جہاں سے ہمیں فیری لینا تھی ۔ یہ ایک خوشگوار دن تھا اور سورج اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا ۔ گاڑی جہاز کے زیریں حصہ پر پارک کرنے کے بعد ہم بالائی منزل پہ پہنچے جہاں کئی منزلیں تھیں۔ پر منزل پہ ریسٹورنٹ اور ڈیوٹی فری شاپس تھیں۔ہم کھلی فضا میں بیرونی ڈیکب پہ جا کر ارد گرد کے خوبصورت مناظر کا لطف لینے لگے۔سامنے کی طرف تا حد نگاہ سمندر اور اسکی سرکشی موجیں اور پچھلی طرف ہمیں الوداع کہتی انگلستان کی مشہور سفید چٹانیں جو فرانس سے آنے والے جہازوں کے لیے انگلستان کی زمینی سرحد کی نشاندہی بھی کرتی ہیں ۔فضا میں اڑتے سفید بگلوں کی سریلی آواز ماحول کو مزید سحر انگیز بنا رہی تھی ۔اس وسیع و عریض جہاز کو دیکھ کر ٹائی ٹینک کی یاد آگئی۔ آس پاس نظر دوڑائی کے کہیں کوئی جوڑا اپنی رومانوی داستان رقم کرنے کے چکر میں جہاز کے کپتان کے لئے distraction کا باعث تو نہیں بن رہا ورنہ ہمیں تو تیراکی کی الف ب بھی نہیں آتی ۔خیر خیریت رہی اور نوے منٹ کے بعد ہم فرانس پہنچ گئے ا ور ایمسٹرڈیم روانہ ہونے کے لیے گاڑی روڈ پہ ڈالی ۔سڑک پہ آتے ہی ہمیں ایک نئے چیلنج کا سامنا تھا ۔ ایک عجیب صورت حال نے آن گھیرا ۔

باقی اگلی قسط میں

آپ کے کمنٹس کا منتظر

عرفان احمد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *