سفرنامہ ہالینڈ قسط 2

برطانیہ اور پاکستان میں لیفٹ ہینڈ ڈرائیو ہے اور مجھے رائیٹ ھنڈ ڈرایئو کا کوئی تجربہ نہیں جو کہ باقی یورپ میں رائج ہے – اب جو سڑک پہ گاڑی ڈالی تو کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا ۔ اسی چکر میں دو چار غلط ایکزٹ لے لئے ۔نتیجہ یہ نکلا کہ جہاں چار گھنٹے میں ایمسٹرڈیم پہنچا تھا وہاں پانچ گھنٹے لگ گئے ۔

ہوٹل ایک خوبصورت پارک کے ساتھ واقع تھا ۔رات کے قریبا آٹھ بج چکے تھے اور تھکاوٹ سے برا حال تھا ۔ لہذا چیک ان کرنے اور ہوٹل سے چند ضروری معلومات لینے کے بعد کمرے کا رخ کیا – ہوٹل کی 19 منزلیں تھیں اور ہمارا کمرہ پانچویں منزل پہ۔

کمرہ کشادہ اور انتہائی آرام دہ تھا ۔ اس ہوٹل کے انتخاب پہ اپنے آپ کو شاباش دی ۔

تھکاوٹ اور موسم کو دیکھتے ہوئے باہر نکلنے کا ارادہ ملتوی کیا اور لمبی تان کر سو گئے –

صبح تازہ دم ہو کر اٹھے اور ایمسٹرڈیم کے مرکزی اور مشہور سیاحتی مقام ڈیم اسکوئر جانے کا ارادہ کیا ۔

یہ جگہ لندن کے ٹرافیلگر اسکوائر ( Trafalgar square) جیسی ہے ۔

یورپ کے باقی بڑے شہروں کی طرح ایمسٹرڈیم کے مرکز میں بھی پارکنگ بہت مہنگی اور نایاب ہے ۔ لہذا پبلک ٹرانسپورٹ کو ترجیح دی جاتی ہے ۔

مرکز کے علاقوں میں تو ایک گھنٹے کی پارکنگ تقریبا آٹھ سے دس یورو تک کی ہے ۔

ہم نے ہوٹل کی پارکنگ میں ہی گاڑی چھوڑی اور ٹرام پہ جانے کا فیصلہ کیا۔

آپ ایمسٹرڈیم پہنچتے ہی آپنا ٹرام اور بس کا پاس بنوا لیں- بالغوں کے لئے ایک دن کا پاس آٹھ یورو کا ہے ۔ چار سال سے اوپر کے بچوں کا یومیہ پاس چار یورو اور اس سے چھوٹے بچے مفت سفر کر سکتے ہیں۔

جتنے دن کا قیام ہو اس حساب سے پاس بنوا لیں ۔ہمارا قیام تین دن کا تھا تو انیس یورو کے رعایتی نرخ پہ بنا –

پاس ٹرام کے اندر سے بھی مل جاتا ہے ۔ ٹرام کا نقشہ بھی لے لیں جس پہ تمام اہم سیاحتی مقامات کی نشاندھی کی گئی ہے تاہم گوگل بہن کے ہوتے ہوئے آپ کو کسی اور نقشے کی بھلا کیا ضرورت ۔

13 نمبر ٹرام میں بیٹھ کڑ ہم پندرہ منٹ میں ڈیم اسکوائر جا پہنچے ۔ حسب توقع وہاں سیاحوں، اور کبوتروں کا کافی رش تھا ۔

اسکوائر کے درمیان کھڑے ہو کر آپ چاروں اطراف خوبصورت فن تعمیر کی عمارات دیکھ سکتے ہیں ۔

اسکوائر کے اطراف کسی بھی گلی میں گھس جائیں،پانچ سے دس منٹ پیدل چلنے کے بعد آپ کو پھولوں سے سجی کوئی خوبصورت نہر ، سائیکلوں سے لدا کوئی پل یا پھر آلو کے چپس یا ولندیزی چیز ( Dutch cheese ) کی دکان ضرور ملے گی ۔

نہر کی جناب چلتے ہوئے اچانک ہماری نظر ایک جگہ ٹھہر گئی اور ہم ورطہ حیرت میں پڑھ گئے

باقی اگلی قسط میں

آپ سے گذارش ہے کہ اردو کے شوقین حضرات سے اسے ضرور شئیر کیجیے گا اور میرے ساتھ ہالینڈ کے اس سفر میں شامل رہیئے

عرفان احمد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *