سفرنامہ ہالینڈ قسط 3


نہر کی جناب چلتے ہوئے اچانک ہماری نظر ایک جگہ ٹھہر گئی اور ہم ورطہ حیرت میں پڑھ گئے

نگاہ ایک لمبی اور قدرے کم چوڑی عمارت پہ پڑی – کوئی دس فٹ کے قریب چوڑی یہ تین منزلہ عمارت آس پاس کی تمام عمارتوں سے کوئی الگ ہی دکھائی دے رہی تھی ۔ جیسے قد آور انسانوں میں کوئی بونا۔
تحقیق کرنے پہ معلوم ہوا کہ ایمسٹرڈیم میں ایسی کئی عمارتیں ہیں جو سامنے سے بہت کم چوڑی ہوتی ہیں مگر کئی منزلہ اونچی ہوتی ہیں ۔ انہیں
Ginger Bread Houses
کہا جاتا ہے ۔

Amsterdam’s smallest house

پرانے وقتوں میں گھر کی چوڑائی کے حساب سے ٹیکس وصول کیا جاتا تھا ۔ لہذا ٹیکس سے بچنے کے لئے کم چوڑے گھر بنائے جاتے تھے ۔

جس گھر پہ ہماری نظر جا ٹھہری تھی وہ ایمسٹرڈیم کا سب سے چھوٹا مکان تھا جو اب ایک کیفے میں تبدیل ہو چکا تھا۔

اگر آپ ایمسٹرڈیم کی سیر کو جائیں تو گوگل کی مدد سے با آسانی اس مکان تک پہنچ سکتے ہیں۔

انہی مکانات کی ایک خوبصورت لڑی آپ کو ایمسٹرڈیم کے مرکزی ٹرین اسٹیشن کے پاس ایک سڑک جس کا نام ڈام راک
Damrak
ہے ، پہ ملیں گے ۔ان مکانات کے سامنے بہت سی کشتیاں پارک ہوئی نظر آئیں گی اور بہت سے بوٹ ٹوورز یہی سے شروع ہوتے ہیں۔

یہ مکانات ایمسٹرڈیم کا ایک اہم سیاحتی مقام بن چکے ہیں اور یہاں تصویر لینا ایک لازمی امر
دن ہو یا رات ان کی خوبصورتی کے کیا کہنے ۔

ان مکانات کے دوسری طرف سڑک کے پار ایک لمبی قطار لگی ہوئی تھی جہاں انسان ہی انسان تھے اور وہ سب کافی بے چین دکھائی دے رہے تھے ۔

آگے بڑھے کہ پتا کریں کیا ماجرہ ہے۔


اس قطار کی کہانی سنانے سے پہلے آ پ کو بتاتا چلوں کہ جب ہم ایمسٹرڈیم پہنچے تو یہ جانے کی کوشش کرتے رہے کہ یہاں کی کونسی مقامی خوراک مشہور ہے ۔ زیادہ تر تو میٹھوں کی دکانیں ہی نظر آتی ہیں جیسے کہ وافلز (waffles)
ان وافلز پہ چاکلیٹ ، آئس کریم یا مختلف پھل ڈال کر ان کی مختلف اقسام بنایئ گئی ہیں۔
اس کے علاوہ یہاں آلو کے چپس ( ہالینڈ فرائز) بہت کھائے جاتے ہیں ۔ جب ہم وینس گئے تھے تو وہاں ہمارا تعارف ہالینڈ فرائز سے ہوا تھا۔

یہ چپس جسامت میں تھوڑے موٹے ہوتے ہیں اور انکو مزید ذائقہ دار بناتی ہیں انکے ساتھ ملنے والی انواع و اقسام کی ساسز( sauces)

یہ ساسز بڑی بڑی بوتلوں میں چپس کی دکانوں پہ چھت سے لٹک رہی ہوتی ہیں اور ان پہ انکے ذائقہ کا نام درج ہوتا ہے ۔ کھٹی ،میٹھی، زیادہ مرچیلی، کم مرچیلی، اور نا جانے کتنی چٹخارے دار چٹنیاں دستیاب ہوتی ہیں اور سیاح اور مقامی لوگ ان پہ دیوانہ وار ٹوٹے پڑے ہوتے ہیں ۔

یہ طویل قطار ایسی ہی ایک چپس کی دکان کے باہر لگی ہوئی تھی جو ایمسٹرڈیم کے مرکزی ریل اسٹیشن کے قریب سب سے مشہور دکان ہے اور ایمسٹرڈیم کا دورہ یہاں کے چپس کھائے بغیر مکمل نہیں ہوتا ہے ۔

The famous Fries shop on Damark



ویسے بھی ہم تو وینس کے ٹرپ کے بعد سے ہی ان چپسوں اور ساتھ ملنے والی sauces کے دیوانے ہو چکے تھے ۔

دکان سے چپسوں کی اٹھتی مہک قطار میں کھڑے مجھ سمیت باقی لوگوں کی بھوک اور انتظار کو مزید مشکل بنا رہا تھا ۔

خدا خدا کر کے باری آئی اور ہم نے بڑے سائز کے دو چپس آرڈر کئے جو چار افراد کے لیے کافی تھے ۔ ہمارے ساتھ ہماری مقامی میزبان اور پرانی دوست فاطمہ بھی تھیں جو گذشتہ تین سال سے ایمسٹرڈیم میں مقیم تھیں ۔فاطمہ کی وجہ سے ہم نے ایمسٹرڈیم دو دن میں ہی دیکھ ڈالا۔

چپس سے لطف اندوز ہوتے ہوئے ہم نے فاطمہ سے پوچھا کہ یہ ولندیزی یعنی ڈچ لوگوں کی کوئی مقامی ڈش نہیں ہے جیسا کہ ہمارے ہاں بریانی مشہور ہے۔
فاطمہ نے بتایا کہ یہاں ایسی کوئی ڈش نہیں اور زیادہ تر ڈشز یورپ کے باقی ملکوں سے لے کر مقامی ذائقہ میں ڈھال لی گئی ہیں۔ جیسا کہ ڈونر ۔

تو ایمسٹرڈیم کے تین روزہ دورہ میں ہم نے ان چپسوں اور وافلز سے بارہا دو دو ھاتھ کئے ۔

اس کے علاوہ بھی ہالینڈ میں ایک شہ بہت شوق سے کھائی جاتی ہے اور یہ ہالینڈ کی وجہ شہرت بھی ہے-

آپ اس شہ کا اندازہ لگائیں اور میں اگلی بار آ پ کو تفصیل سے اسکی کہانی سناو گا

باقی اگلی قسط میں

آپ سے گذارش ہے کہ اردو کے شوقین حضرات سے اسے ضرور شئیر کیجیے گا اور میرے ساتھ ہالینڈ کے اس سفر میں شامل رہیئے گا۔
پہ ملیں گی ۔

عرفان احمد

Ginger bread house at night.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *