Hosipital Diaries Episode 2

.قسط 2

(Tatto )ہسپتال آمد پہ میری کھبی یعنی بائیں ٹانگ پہ ایک “ ٹاٹو

” بنایا گیا ۔ اب جب ایک ڈاکٹر نے دن میں ا.تنے آپریشن کرنے ہوں تو اس بات کے امکان تو ہیں نا کہ کس کی دائیں کی جگہ بائیں اور بائیں کی جگہ ٹانگ کا آپریشن ہو جائے ۔ اس لئے تمام مریضوں کو وارڈ میں آتے ہی “ ٹھپے” لگا دیئے جاتے ہیں ۔ .
میں نے بھی اپنی زندگی کے اس پہلے عارضی ٹاٹو کی تصویر لی اور اسے آپ کے لئے محفوظ کر لیا ۔ آپ سے درخواست ہے کہ waxing کی صلاح دینے سے پہلے یہ ضرور یاد رکھیں کہ یہ ایک مردانہ ٹانگ ہے ۔ .
اس دوران نرس بڑی تندہی سے ہمارے کوائف اکٹھی کرتی رہی اور اسے فارم پہ درج کرتی رہی ۔ قریب اس کے کہ وہ ہمارا شجرہ نسب بھی پوچھتی ، وارڈ کی رجسٹرار کمرے میں داخل ہوئی ۔

رجسٹرار نے ہاتھ آگے بڑھاتے ہوئے مجھ سے مصافحہ کرتے ہوئےاپنا تعارف کروایا اور آپریشن کے تمام مراحل اور ان سے منسلک رسک سے مجھے آگاہ کیا اور آخر میں consent forms یعنی رضا مندی کے فارمز پہ دستخط کرنے کو کہا ۔
میں نے فارمز پہ فورا دستخط کر دئیے ۔ “ارے آپ نے تو فورا signکر دئیے ، پڑھا بھی نہیں” “ ڈاکٹر صاحبہ میں نے تو نکاح کے فارم پہ دستخط کرتے نہیں سوچا تھا جہاں ساری زندگی داؤ پہ لگی تھی ، یہ تو پھر بھی گھٹنے کا آپریشن ہے 😆” .

فضا میں موجود ساری ٹینشن کہ جگہ قہقہوں نے لے لی اور س دوران میں نے کن اکھیوں سے بیگم کی طرف دیکھا جو حیران کن طور پہ اس قہقہے میں شامل تھی ۔ اگر آج آپریشن نہ ہوتا تو ایسی بات سن کر شائد دوسری ٹانگ بھی سلامت نہ رہتی ۔
.
ڈاکٹر کے کمرے سے نکل کر اس نے ایک بیڈ کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ آپ اس پہ لیٹو اور نرس آپ کو تھیٹر میں لے جائے گی ۔ “ آپ اس مقام سے آگے نہیں جا سکتی “ بیگم کو وہی روک لیا گیا اور اس نے ایک الوداعی تصویر کھینچی جو پیش خدمت ہے ۔
آگے کیا ہوا ، اگلی قسط میں بتاؤں گا

پہلی قسط کا لنک نیچے دیا گیا ہے .

Episode 1 Link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *