Hospital Diaries – Episode 1

“اچھا اب تم درود شریف پڑھ لو اور تھوڑا سو لو”کراچی کے ڈاکٹر شاہد سے ہونے والی مختصر گفتگو کے اختتام پہ انہوں نے Anesthesia کا انجکشن تیار کرتے ہوئے مجھے کہا۔“ ڈاکٹر صاحب آپ بسم الله کریں ، میں تیار ہوں” ۔ اور اسکے بعد جب مجھے ہوش آیا تو میں Recovery ward میں تھا۔میں ہسپتال پہنچا تو بالکل نروس نہ تھا اور بحیثیت ایک کھلاڑی میرا مورال ہائی تھا۔ ویسے بھی الله اپنے بندوں کے ساتھ بہترین معاملہ کرتا ہے اور وارڈ میں ایڈمیشن سے لے کر آپریشن تک کے تمام مراحل خوش اسلوبی سے انجام پا گئے ۔بھارت سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹر پارکر ایک نوجوان سرجن ہیں ۔انکی ٹیم اور انہوں نے میرا بہت خیال رکھا اور ہنستے کھیلتے گپ شپ کے ماحول میں سارا وقت گزرا ۔ سرجری کے بعد جب وہ مجھے وارڈ میں دیکھنے آئے تو اتفاق سے اس وقت میرے کمرے میں نرس ، وارڈ رجسٹرار ڈاکٹر ، فیزیو اور کچن والی خاتون سب موجود تھیں۔ “ کیا بات ہے عرفان ، تمھیں تو بڑی توجہ مل رہی ہے “ اور ساتھ ہی ایک معنی خیز مسکراہٹ سے سٹاف کی طرف دیکھا ۔ اس موقع پہ ہیڈ نرس بول پڑی کہ چونکہ ایسے نوجوان مریض وارڈ میں کم ہی آتے ہیں اور زیادہ تر” بابے “ اپنے “ گوڈے” ( گھٹنے) تبدیل کروانے آتے ہیں تو ساری توجہ عرفان کی جانب ہی ہے 🙂 ۔ “ آپکے بائیں گھٹنے کے زخم کو میں نے مرمت کر دیا ہے اور چار ہفتے تک آپ مکمل طور پہ چلنے پھرنے کے قابل ہو جائیں گے۔ اب آپ سے کلینک میں ملاقات ہو گی “ ۔ ڈاکٹر صآحب نے یہ کہہ کر رخصت لی اور میں ، جو اب کچھ ہوش میں تھا ، واقعات کی ترتیب کو دہرانے لگا۔ہسپتال آمد پہ مجھے ایک تحفہ پیش کیا گیا۔

اس کا ذکر اگلی قسط میں کروں گا

2 thoughts on “Hospital Diaries – Episode 1

  1. اس موقع پہ ہیڈ نرس بول پڑی کہ چونکہ ایسے نوجوان مریض وارڈ میں کم ہی آتے ہیں اور زیادہ تر” بابے “ اپنے “ گوڈے” ( گھٹنے) تبدیل کروانے آتے ہیں 😆😆😆😆

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *