Hospital Diaries Episode 3

قسط 3
ہسپتال کی روداد۔۔۔
..
.
“ اب آپ گھر تشریف لے جائیں ، ہم عرفان کے آپریشن کے بعد جب اسے ICU سے وارڈ میں منتقل کریں گے تو آپ کو موبائل پہ اطلاع دے دیں گے یا آپ تازہ ترین صورت حال کے لئے وارڈ کے نمبرز پہ کال کر سکتی ہیں ۔ تاہم ہسپتال کے ضوابط کے مطابق آپ کو یہاں رکنے کی اجازت نہیں “

نرس بیگم سے مخاطب ہوتے ہوئے بولی ۔ تاہم اسے شش و پنج میں دیکھ کر پھر سے بولی “ اور آپ یقین کریں کہ ہم آپ سے زیادہ عرفان کا خیال رکھیں گے “

نرس کی ان تسلیوں کا کچھ اثر ہوا اور الوداعی تصویر لینے کے بعد بیگم نظروں سے اوجھل ہو گئی اور میں اپنے ہسپتال گاؤن میں بغیر موبائل اور کسی ساز و سامان کے نرسوں کے رحم و کرم پہ آپریشن تھیٹر کی جانب روانہ ہوا ۔
یہاں کے ہسپتالوں میں رات کے اوقات میں بھی ساتھ رکنے کی اجازت نہیں ہوتی اور غیر ضروری بھیڑ سے بچنے کے لئے اہل خانہ کو گھر بھیج دیا جاتا ہے ۔ آپ کے بیڈ کے ساتھ ایک بیل مہیا کی جاتی ہے اور آپ حسب ضرورت نرس کو بلا سکتے ہیں۔
تھیٹر پہنچتے ہی ایک اور نرس نے پہلے سے درج شدہ معلومات کی مجھ سے تصدیق کی اور ایک بار پھر پوچھا کہ “ کیا آپ آپریشن کے لئے تیار ہیں ؟
Are you happy to proceed ? ‎“ میرا خیال ہے کہ میں پل صراط سے گزر چکا ہوں ، بسم الله”
I guess now I am at point of no return and it’s way too late to say No 🙂 اس مقام سے قدرے کم ہوشربا نرس نے مجھے بے ہوش کرنے کے ماہر ڈاکٹر کے حوالہ کیا اور تھیٹر کے بیچوں بیچ پہنچا دیا ۔
اس وقت سب لوگوں کی اتنی توجہ پا کر مجھے ایسے لگا جیسے میں سہرا باندھے ایک دولہا ہوں جو اسٹیج پہ بیٹھا ہے اور سب اس کے پاس خیریت معلوم کرنے آ رہے ہوں ۔ ایجاب و قبول تو یہاں بھی مسلسل جاری تھا ، کبھی نرس تو کبھی ڈاکٹر ۔

اور اس بار بے ہوشی کا ٹیکہ ھاتھ میں لئے میرے منتظر تھے کراچی کے ڈاکٹر شاہد جن سے کچھ گفت و شنید ہوئی جس میں انہوں نے مجھ سے استفسار کیا کہ بھری جوانی میں میرے گٹھنے نے مجھے کیسے دھوکا دیا “ سر محبت “ میرے جواب پہ وہ چونک سے گئے ۔ “ میرا مطلب کرکٹ سے محبت ، کہیں آپ یہ نہ سمجھ لیں کہ کسی میم کی محبت میں گرفتار ہو کر میں اسے بھائیوں سے پٹ کر یہاں آیا ہوں ۔ یہ چوٹ کرکٹ کھیلنے سے واقع ہوئی ہے اور اس کا علاج ضروری ہو گیا تھا “
اس بات پہ انہوں نے ایک قہقہہ لگایا اور پھر سے ٹیکہ تیار کرنے میں مصروف ہو گئے۔ “ چلو درود پڑھ لو “
یہ کہہ کر انہوں نے ٹیکہ میری رگوں میں اتار دیا اور پھر ان چراغوں میں روشنی نہ رہی۔

اس کے بعد کیا ہوا ، کل کہانی کے اختتام کی جانب بڑھیں گے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *