پاکستان اور بہاولپور کی شان ۔ نور محل

مجھے یہ اعتراف کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہو رہی کہ بہاولپور سفر کرنے سے پہلے اس شہر کے بارے میں میری معلومات محدود تھی اور اس کی تاریخی حیثیت سے میں تقریبا نا بلد تھا ۔

لاہور سے بہاولپور پہنچتے شام ہو گئی اور تھکاوٹ بھی مگر وہاں پہنچتے ہی ہم نے نور محل کا رخ کیا ۔ اس شہر سے واقف تمام لوگوں نے ہی ہمیں نور محل دیکھنے کی تاکید کی تھی ۔

مجھے یہ اعتراف بھی کر لینے دیجیئے کہ جب نور محل اور اس کی چکا چوند روشنیوں پہ میری نظر پڑی تو میں ششدر رہ گیا ۔ دنیا کے تیس ممالک دیکھنے کے بعد ایسی خوبصورت عمارت کی پاکستان میں موجودگی میری توقعات کے دائرے سے باہر تھی۔

کچھ دیر محل کے سامنے موجود وسیع و عریض لان سے میں اس عمارت کو تکتا رہا اور اپنے آپ سے سوال کرتا رہا کہ ایک سیاح کی حیثیت سے میں کیونکر اب تک اس جگہ اور اس سے منسلک تاریخ اور خوبصورتی سے ناواقف رہا ؟ کیوں ہماری وزارت سیاحت ایسی جگہوں کی تشہیر نہیں کرتی ، غیر ملکی سیاح تو ایسی تاریخی عمارتوں کے دیوانے ہوتے ہیں ۔اور یہ جگہ مقامی حکومت کو ٹھیک ٹھاک سرمایہ دے سکتی ہے ۔

میں نے اس محل کے بارے میں تحقیق کی تو کئی دلچسپ کہ کہانیاں سامنے آئیں ۔


سب سے پہلے جو کہانی سامنے آئی وہ یہ تھی کہ نواب صادق پنخم یعنی پانچ ، ( قیام پاکستان کے وقت وہ ریاست کے نواب تھے) نے یہ محل اپنی بیگم کے لئے تعمیر کروایا تھا

تاہم بیگم ایک رات اس میں رہیں اور اگلے دن وہاں سے روانہ ہو گئیں ۔ وجہ یہ تھی کہ وہ محل میں ایک رات بسر کرنے کے بعد اگلی صبح وہ محل کے سب سے اوپر والی چھت پر گئیں تو محل کے باغات سے ملحق ایک قبرستان دیکھ کر نواب صاحب کو کہا کہ آپ نے میرے لیے قبرستان میں گھر بنوادیا؟میں یہاں نہیں رہوں گی۔‘

لہذا ایک رات کے سوا شاہی خاندان یہاں نہیں رہا ۔

تاہم جب نواب صاحب کے پوتے سے اس کہانی کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ صرف کہانی ہے۔ ہمارے ہاں عورتوں کے نام پہ محل کا نام رکھنا تو دور کی بات ہے ، ان کا نام لینا بھی معیوب سمجھا جاتا ہے ۔

پھر ان سے پوچھا گیا کہ آخر یہ محل پھر کیوں تعمیر ہوا او ر اس کا نام نور محل کیوں ہے تو انہوں نے بتایا کہ نور اللہ لے نور کی مناسبت سے رکھا گیا اور اس کا مقصد ایک شاہی مہمان خانہ بنانا تھا جس میں ریاست کے مہمان ٹھہر سکیں۔

اصل کہانی کیا ہے و اللہ عالم

ان روشنیوں کے سحر سے آذاد ہو کر میں محل کے اندرونی حصہ کی جانب بڑھا ۔ ۔

دربار کے میں ہال میں پہنچ کر اس کی چھت دیکھ کر یوں لگا جیسے مائیکل اینجلو نے اسے پینٹ کیا ہو ۔

محل کی چکا چوند سے متاثر ہو کر میں نے وہاں ہال کی نگرانی پہ معمور ایک فوجی بھائی سے علیک سلیک کرنے کے بعد فرمائش کر ڈالی کہ بھائی ہم ایک خانہ بدوش اور سیاح ہیں ، آپ کے تو شب و روز اس عالی شان محل میں گزرتے ہیں کچھ ہمیں بھی بتائیں آپ اس کے بارے میں ۔

اس بات کا ذکر بھی کرتا چلوں کہ نور محل پاک فوج کی ملکیت ہے اور وہی اس کا انتظام و اصرام چلاتی ہے ۔

جیسے جیسے ہمارے وقتی گائیڈ نے محل کی تاریخ بیان کرنا شروع کی ہماری دلچسپی بڑھتی گئی ۔ اور اسی دوران انہوں نے ذکر کیا کہ عمارت دال ماش اور چاول کے آمیزے والے گارے سے بنائی گئی ہے ۔ یہ بات ہمارے لئے اتنی حیران کن تھی کہ ہم نے جھٹ سے کیمرا آن کیا اور ان سے یہ بات دہرانے کو کہا ۔

ہال میں تین بڑے فانوس لگے تھے جو اس کی روشنیوں اور شان میں اضافہ کر رہے تھے ۔  ان فانوسوں میں لگے ہیرے چوری کرنے کی کوشش کے دوران یہ فانوس گرا کر تباہ کر دیے گئے۔ان کے گرائے جانے سے جو نشان پڑے وہ اب بھی موجود ہیں۔

محل کا فرنیچر برطانیہ، اٹلی، فرانس اور جرمنی وغیرہ سے درآمد کیا گیا تھا۔ یہ فرنیچر آپ کو مرکزی ہال میں بھی ملے گا اور بیڈ روم میں بھی۔ آج بھی اس کی چمک دمک قائم ہے۔ انہیں چھونے یا ان پہ بیٹھنے کی اجازت نہیں ہے تاہم ہم نے اپنے بلاگر ہونے کا واسطہ دے کر فوجی بھائی سے اجازت لے کر نواب اسٹائل سے تصویر بنوائی ۔

ہال کے دونوں اطراف جو رہائشی کمرے ہیں ان میں سے زیادہ تر اب دفاتر میں تبدیل ہو چکے ہیں جہاں عوام کی رسائی نہیں ہے ۔ تاہم ایک بریڈ روم عوام کے لئے ابھی بھی کھلا ہے۔

راہداریوں میں تمام نوابوں کی تصاویر آویزاں ہیں۔

محل کے مختلف دالانوں میں ریاست بہاولپور کے دور کی اشیا، لباس، ہتھیار اور دیگر اشیا رکھی گئی ہیں۔ تاہم غلاف کعبہ کے اردگرد سب سے زیادہ رش تھا ۔ کہا جاتا ہے کہ ریاست بہاولپور غلاف کعبہ مہیا کیا کرتی تھی اور 1935 میں نواب صادق پنخم کو حج کے موقع پہ تحفہ کر دیا گیا ۔جس گاڑی میں نواب صاحب حج پہ گئے تھے وہ بھی محل کے باہر کھڑی ہے ۔

نواب صاحب کا اپنی بیگم کے لئے جرمنی سے منگوایا گیا پیانو اور ان کی اسنوکر ٹیبل بھی دیکھی۔

سونے پہ سہاگہ کہ یہاں ویک اینڈ پہ لائٹ اور فاونٹین شو بھی ہوتا ہے مگر ہم چونکہ بدھ کے روز گئے تھے لہذا شو دیکھنے سے محروم رہے۔

نور محل دیکھنے کے بعد ہم سمجھے کہ ہمارا دورہ بہاولپور کا حق ادا ہو گیا مگر ہمیں کیا معلوم تھا کہ کہانی تو ابھی شروع ہوئی تھی ۔کہانی میں ایک ٹوسٹ باقی تھا۔ انتظار کیجیے

دربار ہال کی چھت
وہ گاڑی جس پے جس پہ نواب صادق حج کے لئے گئے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *