اسٹابری اور دوسرے پھلوں کے فارم کی سیر

اسٹابری بچپن سے ہی عنایہ، میری بیٹی، کا پسندیدہ فروٹ پے ، لہذا بچپن میں اس کی نیپیز اور دودھ کے ساتھ ساتھ اسٹابری بھی ہماری ہفتہ وار خریداری کا حصہ ہوا کرتی تھی ۔

نیپیز کا سلسلہ تو ختم ہو چکا مگر سپر مارکیٹ داخل ہوتے ہی عنایہ سب سے پہلے اسٹابری ٹرالی میں ڈالتی ہے ۔
اس کے شوق کے مدنظر کافی دفعہ منصوبہ بنایا کہ عنایہ کو اسٹابری کے فارم پہ لے جایا جائے جہاں وہ بذات خود انہیں توڑے کے تجربے سے لطف اندوز ہو سکے ۔

خیر انسان کا کام ہے منصوبہ بندی کرنا مگر ہوتا وہی ہے جو اللہ کی رضا ہو۔ کافی سالوں سے بنتا یہ منصوبہ بلاآخر گذشتہ روز پایہ تکمیل کو پہنچا اور ہم لندن سے چالیس منٹ کی مسافت پہ موجود فارم پہ پہنچے جہاں اسٹابری کے علاوہ دوسرے پھل بھی توڑے جانے کے لئے موجود تھے۔

فارم پہ داخلہ کے لیے ٹکٹ کی خریداری آپ آن لائن کر سکتے ہیں جو بعد میں آپ کے خریدے اور چنے ہوئے پھلوں کی قیمت میں سے منہا کر دی جاتی ہے ۔

پھلوں کو توڑ کر انہیں رکھنے کے لئے لئے آپ کو خوبصورت ٹوکریاں دی جاتی ہیں ۔ آپ ہر پھل کے لئے الگ ٹوکری لے سکتے ہیں اور بعد ازاں ان بھر کر وزن کے حساب سے ان کی قیمت ادا کر سکتے ہیں ۔
پھلوں کے نرخ داخلی راستے پہ آویزاں ہیں تاکہ آپ اسی حساب سے ٹوکری بھریں اور” مال مفت دل بے رحم” سمجھ کر فارم لوٹ نہ لیں 🙂

اتنے خوبصورت، کشادہ اور سرسبز فارم دیکھنے کا یہ ہمارا پہلا تجربہ تھا ۔
اس سے پہلے صرف ٹی وی پہ ہی دیکھنے کا اتفاق ہوا تھا۔

اس حسین فارم کو دیکھ کر ذہن میں ایک سوال نے جنم لیا

سوال یہ تھا کہ پاکستان میں بھی تو ایسے فارمز ہوتے ہونگے تو پھر وہاں ایسی صحت افزا سرگرمیاں کیوں نہیں ترتیب دی جاتی ہیں۔
یا ہمارے بچپن میں کیوں نہیں تھی ۔پھر خیال آیا کہ جس زمانے کی میں بات کر رہا ہوں تب پنجابی فلمیں اپنے عروج پہ تھیں اور غالبا ایسے تمام کھیت اور فارمز ہماری بھاری بھر کم ہیروئنز کے کھیتوں میں ڈانس کرنے کی تاب نہ لا کر پھل اگانے کے قابل نہیں رہے ہونگے ۔

خیر آگے بڑھے تو اسٹابری قطار در قطار بڑی ترتیب سے زمین سے اوپر مناسب اونچائی پہ کیاریوں میں لگائی گیئں تھیں جہاں آپ بغیر جھکے توڑ سکتے ہیں۔
یہ بڑا ہی دلکش نظارہ اور مسحور کن نظارہ تھا ۔

ہرے بھرے سر سبز پتوں میں چھپی یہ لال رنگ کی مختلف سائز کی اسٹابریز قدرت کے حسین رنگوں کے امتزاج کی ایک جھلک تھی ۔

ان کو توڑنے کا دل تو نہیں کر رہا تھا مگر بہر حال توڑنی تو تھیں ۔

اپنے خیالوں کے سحر سے نکلا تو دیکھتا ہوں کہ عنایہ فل سپیڈ سے اپنی ٹوکری اسٹابریز سے بھرنے میں مصروف تھی کہ شاید اس کے بعد اسٹابری ناپید ہی نہ ہو جائے , اس ٹوکری کا نظارہ آپ تصاویر میں دیکھ سکتے ہیں۔
.
اور بالآخر جب ٹوکری کا وزن عنایہ کی پہنچ سے آگے جا نکلا تو عنایہ نے حسب معمول معصومانہ شکل بناتے ہوئے کہا

” بابا یہ اب آپ اٹھا لیں”

اور ساتھ ہی دوسری ٹوکری، جو ابھی خالی تھی ، کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ آئیں اس میں اب بلو بیریز بھرتے ہیں ۔

بلو بیریز بھی اسٹابریز کے پڑوس میں ہی اگائی گئیں تھیں۔

قبل اس کے کہ عنایہ بلو بیریز کے ساتھ بھی وہی سلوک کرتی جو اس نے اسٹابریز کے ساتھ کیا تھا ، انگلش موسم آڑے آیا اور ہلکی پھلکی بوندہ باندی شروع پو گئی ۔گو کہ فارم کا کافی حصہ ڈھکا ہوا تھا مگر ہم نے عافیت اسی میں جانی کہ اس موقع کا فائدہ اٹھا کر ہم نے فارم کے داخلی راستے پہ موجود کیفے کا رخ کیا جہاں آپ کے چنے ہوئے فروٹ کے بل کی ادائیگی کے لئے کاونٹر بنائے گئے تھے ۔ساتھ ہی ساتھ وہاں خریداری کے لئے پہلے سے چنے اور پیک کئے گئے پھل ، جیم اور تازہ پھلوں سے بنی مختلف پراڈکٹس دا
دستیاب تھیں ۔

مجموعی طور پہ یہ ایک خوشگوار تجربہ تھا اور اگر آپ کے ہاں ایسی سرگرمیوں کی سہولت موجود ہے تو میں آپ کو ضرور تجویز کرونگا کہ آپ بمعہ اہل و عیال اس سے مستفید ہوں۔

بچوں کے ساتھ آپ کس طرح کی آوٹ ڈور سرگرمیاں پسند کرتے ہیں؟

فارم پہ بنائی گئی مختصر ویڈیوز کو جوڑ کر جلد ہی پیش کرونگا تب تک آپ میرے الفاظ سے منظر کشی کریں اور فارم کی سیر سے لطف اندوز ہوں ۔

آپ کی آرا کا انتظار رہے گا

عرفان احمد

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *