الله کے مہمان اور ان کی تواضع

تہجد کا وقت تھا۔۔۔ اللہ کے بندے اس کے گھر کے گرد طواف میں مشغول تھے۔۔۔ سیاہ غلاف میں لپٹا اللہ کا گھر اور اس کے گرد احرام میں ملبوس طواف کرتے یہ سفید ذرے۔۔۔ جیسے ایک سیاہ سیارے کے گرد ایک کہکشاں۔۔۔

میں ایک صف میں بیٹھا ان مناظر کو آنکھوں میں سمونے کی کوشش کرتا ہوا اپنے آپ کو یقین دلانے میں مصروف تھا کہ میں واقعی اللہ کے گھر میں بیٹھا ہوں۔۔۔ وہ گھر، وہ طواف، وہ مطاف جسے میں صرف ٹی وی پہ دیکھتا تھا، آج میں خود اس منظر کا حصہ کیسے بن گیا۔۔۔ سب حقیقت سے ماورا لگ رہا تھا۔۔۔ کبھی نظر حجر اسود پہ، تو کبھی میزاب رحمت پہ، کبھی کعبے کے غلاف پہ تحریر آیتوں پہ، تو کبھی ملتزم پہ۔۔۔

حجر اسود کے پاس تو اس بہاؤ کی لہریں اور پُرجوش ہو جاتیں اور اکثر وہ اس بہاؤ میں چھپ کر آنکھوں سے اوجھل ہو جاتا۔۔۔

پورا حرم تیز چکاچوند روشنیوں سے پہلے ہی بقعہ نور تھا اور باقی کمی آسمان سے برستے نور نے پوری کر دی تھی۔۔۔ ایسا محسوس ہوا جیسے میں دریا کنارے ریت کا ایک ذرہ ہوں جو بہاؤ کی زد میں آ کر اس کا حصہ بن گیا تھا۔۔۔۔

اس بساط کیف میں ڈوب کر اور خمار آلود ہو کر میں اللہ سے ”لاڈیاں” لگانے لگا۔۔۔ ”میرے پیارے اللہ! تیرا شکر کیسے ادا کروں۔۔۔ کل تک دفتر میں بیٹھا دنیا کے معاملات میں ایسا مشغول تھا کہ بس اسی لیے پیدا ہوا ہوں، اور آج تیرے تیرے گھر میں بیٹھا اس کیفیت کے مزے لے رہا ہوں۔’

اے اللہ میری کون سی نیکی یا ادا تمھیں پسند آگئی کہ مجھ جیسے گناہ میں لتھڑے انسان کو اپنے گھر کی زیارت بخشی۔

“بیشک تم اپنے رب کی کون کون سی نعمت کوجھٹلاؤ گے۔”

بار بار اس آیت کا ورد کرتے ہوئے اللہ سے میری لاڈیاں اب فرمائشوں میں بدلنے لگیں۔

اے میرے خدا، اس کیفیت اور اس وقت میرے دل کا جو حال ہے وہ تو تُو خوب جانتا ہے، پھر تو تُو یہ بھی جانتا ہوگا کے مجھے سورہ الرحمن سننا کتنا اچھا لگتا ہے

یہ بات بھی تجھ سے چھپی نہیں کہ تیری بنائی ہوئی اس کائنات میں کیسی کیسی آوازیں تو نے پیدا کی ہیں جو تیرا کلام پڑھتی ہیں تو دل چاہتا ہے کہ ساری کائنات تھم جائے۔ کیا ہی اچھا ہو اللہ جی کہ اگر میرے پسندیدہ قاری عبدالرحمن السدیس (امامِ کعبہ) فجر کی نمار پڑھانے آجائیں… اور وہ سورہ الرحمن کی تلاوت کریں تو یہ منظر، یہ کیفیت جس میں میں اس وقت ہوں یہ امر ہوجائے۔

پتہ نہیں کب سے اور کتنی دیر تک میں یہ لاڈ کرتا رہا اور مجھے خبر نہیں ہوئی کہ جماعت کے لیے صف بندی ہو چکی تھی۔۔

مطاف کے جس حصے میں میں بیٹھا تھا وہاں سے امام صاحب نظر نہیں آ رہے تھے مگر جب فضا میں الله اکبر کی صدا گونجی تو میں پہچان گیا ….اتنے سالوں سے ٹی وی پے سنی ہوئی یہ آواز قاری عبدالرحمن اسودیس کی تھی ….

اس وقت میری کیفیت اس بچے کی مانند تھی جو والدین سے کسی چیز کی فرمائش کرتا ہے اور وہ فوری پوری ہونے پے جسے چھلانگیں مار کے خوشی کا اظہار کرتا ہے … دل ہی دل میں تھینک یو الله جی کہا اور فرمائش پوری ہو جانے پے خوشی سے پھولے نہ سما رہا تھا .

اللہ نے امامِ کعبہ قاری عبدالرحمان اسودیس کو ایک نہایت مختلف اور دلکش آواز عطا کی ہے۔۔۔ آپ میں سے جن لوگوں نے انہیں سُنا ہے وہ اس بات سے اتفاق کریں گے کہ کئ ہزار آوازوں میں سے بھی اُن کی آواز اور انداز کو پہچاننا کتنا آسان ہے۔۔ سبحان اللہ۔۔ جب کلام کا کوئ ثانی نہیں تو اُس کے پڑھنے والوں کا کوئ مثل کیسے ہو سکتا ہے۔۔

سورہ فاتحہ کی ایک ایک آیت دل میں اُتر رہی تھی اور ساتھ ہی ساتھ تجسس اور اشتیاق بڑھ رہا تھا کہ امام اب کس سورہ کی تلاوت کریں گے۔۔۔

سورہ فاتحہ کی آخری آیت کے ساتھ ہی آمین کی بلند صدا نے ماحول کی شدت اور اثر میں اضافہ کر دیا۔۔

امام صاحب کے کچھ لمحوں کا توقف، صدیوں پہ مُحیط لگا۔۔۔ اُن دو تین سیکنڈز میں اللہ سے وہ ساری فرمائشیں اور لاڈ پھر سے دُہرائے۔۔۔ پلیز نہ اللہ جی پلیز۔۔۔

بچہ ضد پہ اُتر آیا تھا۔۔۔ خود اُسی نے تو کہا ہے کہ رات کے اس پہر مانگنا ہے جو مانگ لو۔ وہ تو ہر وقت فرمائشیں اور لاڈ اُٹھانے کے لئے تیار رہتا ہے اور کیوں نہ اُٹھائے کہ وہ ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے۔۔

اَلرَّحْمٰنُ

عَلَّمَ الْقُرْاٰنَ

خَلَقَ الْاِنْسٰنَ

سورہ الرحمن کی تلاوت شروع ہوئی اور مجھے اپنا وجود پتھر کا محسوس ہونے لگا… ساکت … بے جان پتلا.. جیسے مجھے وہاں معطل میں کسی نے نصب کر دیا ہے…ایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں اس ناقابل یقین کیفیت سے باہر نکلتے ہوئے اپنے آپ سے پوچھنے لگا کہ اتنے لاڈ کون اٹھاتا ہے…جو جو مانگا جو جو فرمائش کی ایک کے بعد ایک اس نے ساری پوری کر دیں…کیوں…ایسے کیسے ؟

ان فرمائشوں اور لاڈوں کے وہ ان کہا ان سنا مکمل اس مقام پر آن پہنچا جہاں محسوس ہوا جیسے وہ کہہ رہا ہو “مانگتا جا اور میں دیتا جاؤں گا”

اس خمار میں دونوں آنکھیں کھولنے کی کوشش کی تو منظر دھندلا تھا…کچھ دکھائی نہ دے رہا تھا… اس کے تشکر میں کب آنکھیں بھیگیں…کب اس سے جھریاں بہنے لگیں کچھ پتہ نہ چلا۔

الرحمن اور فبای الا ربکما تکذبان کی صدا اور امام صاحب کی آواز کی خوش الحانی سب ڈوب چکے تھے…

سفید احرام میں ملبوس میری طرح نجانے کتنے ہی زروں کی خواہش اور مراد پوری ہوئی ہو گی…اطراف میں چند افریقی مرد اور نوجوان تو اس کیفیت کی تاب نہ لا سکے اور تقریبا جھولنے لگے کہ رِدھم ان کے خون میں شامل ہے…اس کا مظاہرہ افریقہ میں گزرے تین سالوں میں تقریباً کئی بار دیکھا…اس کا ذکر پھر کسی وقت کے لئے چھوڑتا ہوں کہ موقع نہیں ہے، افریقہ سے آئے ان مرد و خواتین کا یہ “ردھم” طواف میں بھی اکثر دیکھنے کو ملتا ہے…دعائیں مانگتے وقت بھی ان کی کیفیت کچھ مختلف نہیں ہوتی…یہ ردھم جو تقریباً رقص میں تبدیل ہوتی ایسی قباحتوں کی تو پاکستان میں کم از کم کوئی گنجائش نہیں۔

جماعت کے اختتام پہ سیکیورٹی اہلکار امام کعبہ کو اپنے حصار میں قریب ہی واقع ان کی رہائش یا غالبا” دفتر تک لے جاتے ہیں۔ اس دوران اس کے پاس جانا تقریبا” ناممکن ہوتا ہے کہ شرطوں سے کچھ بعید نہیں کہ اپنے بھاری بھر کم ہاتھ سے ایک جڑ دیں۔۔۔

اسی حصار کے ساتھ ساتھ چلتے امام صاحب کو مخاطب کرتے اپنی عرض بیان کی کہ بچپن سے آپ کو سن کر اور آپ کو کاپی کرنے کی کوشش میں آج یہ دن آن پہنچا ہے کہ آپ کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ آپ سے ایک مصافحہ کی درخواست ہے۔ میں کیا، سب ہی اسی آس امید میں تھے، اس لیے شنوائی کے امکانات کم ہی تھے۔ لیکن میں بھی اپنے ارادے میں مضبوط چلتا رہا، یہاں تک کہ آس پاس کا رش چھٹ گیا۔ سیکیورٹی کے لوگ بھی تھوڑے نرم پڑے اور اس سے پہلے کہ وہ اپنے مکان کی حد میں داخل ہوتے، امام صاحب ایک مسکراہٹ کے ساتھ میری طرف دیکھتے ہوئے میرے آگے بڑھے، اپنے ہاتھوں سے مصافحہ کر کے اپنے گھر میں داخل ہو گئے۔

بس آپ الله سے مانگتے جائیں ، لاڈ کرتے جائئیں اور پھر دیکھیں وہ اس سفر میں کیسے کیسے آپ کے لاڈ اٹھائے گا ۔ آپ کے دل کی ہر آرزو وہ پوری کرے گا بس انتظار کیجئے اس وقت کا جو اس کی تکمیل کے لئے اس کی ذات نے چنا ہے ۔

11 thoughts on “الله کے مہمان اور ان کی تواضع

  1. اللہ سبحان و تعالیٰ بے شک ہمارے امیدوں سے بڑھ کر نوازنے والے ہیں

  2. کیا ہی خوب تحریر ہے ۔ الرحمن کی آواز بلند ہونے پر یہ آنکھیں بھی آبدیدہ ہو گئیں۔بے شک بس وہی نوازنے والا ہے ۔۔۔ اسی طرح لکھتے رہیئے ۔

  3. SubhanAllah Allah pak aisa manzar har Musalman ko daikhna naseeb karai ameen sum ameen.. ap nai bohat h khoobsorati sai naksha khaincha kuch waqt k liye laga k shahyad mein bhi wahan pauhunch gai hoon

  4. جسے چاہا در پہ بلا لیا، جسے چاہا اپنا بنا لیا
    یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے، یہ بڑے نصیب کی بات ہے

    1. Ameen, Allah hamay bar bar apnay gher ki zayarat ki tuafeeq day or hazri qabol farmai Ameen. Thanks for visiting the site and reading my posts.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *